ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زخمی فلسطینیوں کےعلاج اورغزہ میں پھنسے غیرملکیوں کے انخلا کیلئے مصر کا رفح بارڈر کھول دیا گیا

زخمی فلسطینیوں کےعلاج اورغزہ میں پھنسے غیرملکیوں کے انخلا کیلئے مصر کا رفح بارڈر کھول دیا گیا

Wed, 01 Nov 2023 17:17:24    S.O. News Service

غزہ یکم نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) :  زخمی فلسطینیوں کے مصر میں علاج اور غزہ میں پھنسے  دہری شہریت رکھنے والوں کے  انخلا کے لیے رفح کراسنگ بارڈر کو محدود پیمانے پر کھول دیا گیا  جس کے ساتھ ہی  جنگ شروع ہونے کے بعد  پہلی بار ایمبولینس غزہ کی پٹی سے زخمی فلسطینیوں کو  رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے مصر لے گئیں۔ غیر ملکی شہری اور دوہری شہریت رکھنے والے ، جنہیں  محصور علاقے سے باہر جانے کی اجازت دئے جانے کی توقع تھی، وہ غزہ کی سرحد پر باہرنکلنے کے لئے انتظار میں کھڑے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ رفح  کراسنگ  کے ذریعے باہر نکلنے  کے لئے امریکہ، اسرائیل اور مصری حکومتوں اور حماس کے درمیان کئی ہفتوں کے مذاکرات  ہوئے تھے۔ جس کے بعد بارڈر کو کھولا گیا ہے۔ جس میں قطر نے ثالثی کردار کیا قبل ازیں، حماس  نے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کو کراسنگ پر جانے کے لیے کہا، اور کہا کہ مصر 81 زخمیوں کو لینے پر راضی ہوا ہے۔

 میڈیا رپورٹوں کے مطابق غزہ سے انخلا کا واحد راستہ رفح کراسنگ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے بند کردی گئی تھی جس کے باعث دنیا بھر سے آنے والی امداد اور غزہ سے انخلا کے خواہش مند شہری سرحد پر ہی پھنس گئے تھے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی تنظیموں اور مغربی ممالک نے بھی رفح کراسنگ کو کھولنے پر زور دیا تھا تاکہ امدادی سامان ان فلسطینیوں تک پہنچایا جا سکے جن کی انہیں ا شد ضرورت ہے اور بے گھر ہونے والے فلسطینی مصر میں پناہ حاصل کرسکیں۔ مسلم ممالک کی جانب سے بھی بارہا رفح کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا لیکن تین ہفتے گزر جانے کے باوجود ایسا نہ ہوسکا تھا۔بتایا گیا ہے کہ  قطر نے ثالثی کا کردار نبھاتے ہوئے مصر اور اسرائیل کو رفح کراسنگ کھولنے کا معاہدہ طے کرادیا۔

رپورٹوں کے مطابق رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ سے باہر جانے والوں میں وہ 500 فلسطینی بھی شامل ہیں جن میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو جاپان، آسٹریلیا، بلغاریہ، انڈونیشیا،  اردن، اٹلی، یونان اور چیک جمہوریہ کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں جن غیر ملکیوں کو رفح کراسنگ پار کرنے کی اجازت دی گئی ہے اُن  میں مختلف این جی اوز کے لیے کام کرنے والے امریکا،جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، جاپان، آسٹریلیا، فلپائن اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر 16 ممالک کے شہری بھی  شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت فی الحال زخمی فلسطینیوں کو علاج کے لیے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر  جانے  کی اجازت دی جائے گی اور دہری شہریت کے حامل افراد بھی غزہ سے انخلا کے لیے رفح کراسنگ استعمال کرسکیں گے۔ انتظامیہ نے آج 500 فلسطینیوں کو آگاہ کیا کہ انھیں علاج کی غرض سے مصر میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی ہے اور اب وہ اپنا علاج مصر کے اسپتالوں میں کراسکتے ہیں تاہم علاج مکمل ہونے کے بعد واپس غزہ جانا ہوگا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ رفح کراسنگ کتنے عرصے تک کھلی رہے گی۔ قبل ازیں رفح کراسنگ پر کھڑے سیکڑوں امدادی ٹرکوں میں سے چند کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی تھی۔ اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ معاہدہ کن شرائط کے تحت طے پایا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کے قبضے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل کی جانب سے پانی، ایندھن اور خوراک کی سپلائی بحال کرنے جیسے معاملات معاہدے کا حصہ نہیں  ہیں۔

دوسری جانب حماس کی القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ ثالثوں کو 200 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے کچھ کو رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔


Share: